کتاب لکھنا ایک کام ہے اور چھپوانا دوسرا، اور دوسرے کی اصطلاحات لکھتے ہوئے کبھی نہیں سیکھی جاتیں۔ آئی ایس بی این، پروف، کمپوزنگ، ٹائٹل، اشاعت کی تعداد — یہ سب ایک متعین ترتیب میں آتے ہیں۔
یہ ترتیب اُس دن سے شروع ہوتی ہے جب فائل مکمل ہو جائے، اور وہاں ختم ہوتی ہے جہاں کتاب قاری کے ہاتھ میں ہو۔
ناشر کے ذریعے یا اپنے خرچ پر
پہلی صورت میں ناشر پیداواری خرچ اٹھاتا ہے اور بدلے میں حقوقِ اشاعت اور فروخت کا حصہ لیتا ہے؛ آپ مکمل مسودہ دیتے ہیں اور فیصلہ اُس کا ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں خرچ آپ کا ہے اور سرورق، قیمت اور وقت کا اختیار بھی آپ کا رہتا ہے، مگر نہ بکنے کا خطرہ بھی آپ ہی کا ہے۔
دوسری صورت میں معاہدے پر نظر رکھیں۔ جو ناشر صرف پیسے لے کر چھاپ دیتا ہے اور تقسیم کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتا، وہ عملاً پریس ہے۔ دستخط سے پہلے پوچھیں کہ کتاب کن کتب خانوں اور کن پلیٹ فارموں تک جائے گی، اور یہ بات معاہدے میں لکھوائیں، زبانی نہ رہنے دیں۔
دونوں راستوں میں فنی مراحل ایک جیسے ہیں اور ان کی ترتیب بھی نہیں بدلتی۔
فائل سے کتاب تک
ادارت اور پروف
یہ دو الگ کام ہیں: ادارت ساخت اور بیانیے کو دیکھتی ہے، جبکہ پروف ریڈنگ املا، اوقافِ عبارت اور یکسانی درست کرتی ہے۔ دونوں ایک ہی شخص سے ایک ہی مرحلے میں کرانے کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک بھی ٹھیک سے نہیں ہوا۔
آئی ایس بی این
یہ کتاب کا شناختی نمبر ہے اور ہر ملک میں ایک قومی ادارہ جاری کرتا ہے؛ پاکستان میں نیشنل لائبریری اور بھارت میں راجہ رام موہن رائے ایجنسی۔ عام طور پر درخواست ناشر کے نام سے جاتی ہے، اس لیے یہ مرحلہ ناشر کے انتخاب کے بعد آتا ہے۔
کمپوزنگ اور صفحہ بندی
اردو کی صفحہ بندی کی اپنی باریکیاں ہیں: نستعلیق فونٹ کا انتخاب، سطروں کا فاصلہ، اعراب کی یکسانی اور جِلد کی طرف کا حاشیہ جو متن کو نگل نہ جائے۔ کمپوزنگ کے بعد پروف دوبارہ ضروری ہے، کیونکہ اسی مرحلے میں نئی غلطیاں پیدا ہوتی ہیں۔
سرورق
سرورق آخری قطع اور جِلد کی موٹائی معلوم ہونے کے بعد بنوائیں۔ اسے موبائل کی چھوٹی تصویر میں بھی پڑھا جانا چاہیے، کیونکہ آن لائن فہرستوں میں کتاب اسی سائز میں نظر آتی ہے۔
ڈیجیٹل چھپائی یا آفسیٹ
ڈیجیٹل چھپائی کم تعداد کے لیے مناسب ہے اور سو نسخے بھی چھاپے جا سکتے ہیں۔ آفسیٹ چند سو سے اوپر سستی پڑتی ہے اور رنگ زیادہ یکساں رہتا ہے۔ پہلی کتاب کے لیے کم تعداد اور دوبارہ چھپوانے کی گنجائش، بھرے گودام سے بہتر ہے۔
برقی نسخے کو نظرانداز نہ کریں
اردو پڑھنے والوں کی بڑی تعداد ملک سے باہر ہے، اور ان تک کاغذی کتاب پہنچانا مہنگا بھی ہے اور سست بھی۔ برقی نسخے کی لاگت چھپائی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے اگر حتمی فائل موجود ہے تو کتاب کو صرف کاغذ تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔
ای پب بہتر ہے، پی ڈی ایف نہیں۔ پی ڈی ایف کی صفحہ بندی جامد ہے اور موبائل پر پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ای پب متن کو اسکرین کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔
فہرست درست بنائیں۔ اگر ابواب کے عنوان فائل میں بطور سرخی نشان زد ہوں تو قابلِ کلک فہرست خود بن جاتی ہے، ورنہ اسے ہاتھ سے بنانا پڑتا ہے۔
ڈیجیٹل حقوق الگ دیکھیں۔ برقی نسخے کے حقوق لازماً چھپائی کے معاہدے کا حصہ نہیں ہوتے۔ دستخط سے پہلے واضح کریں کہ کون سا حق کس کو دیا جا رہا ہے۔
خرچ کرنے سے پہلے
چھپائی کی قیمت قطع، صفحات، کاغذ اور تعداد پر منحصر ہے۔ کم از کم تین جگہ سے نرخ لیں اور یقینی بنائیں کہ سب ایک ہی تفصیلات پر قیمت دے رہے ہیں۔
پوری تعداد چھپنے سے پہلے ایک نمونہ نسخہ منگوائیں۔ اسکرین کا رنگ اور کاغذ کا رنگ ایک نہیں ہوتا، اور یہ فرق اصل نسخے پر ہی کھلتا ہے۔
تقسیم کا انتظام پہلے کریں۔ جس کتاب کی تقسیم نہیں، وہ گودام میں رہتی ہے؛ اور گودام میں پڑے رہنے کی قیمت چھپائی سے زیادہ ہے۔
اگر ابھی لکھنے کے مرحلے میں ہیں تو ناول کیسے لکھیں سے شروع کریں، اور مختصر کہانیوں کے مجموعے کے لیے افسانہ کیسے لکھیں دیکھیں۔
ایسی فائل جو ناشر کھول سکے
Writer Atlas کتاب کو اُسی بابوں والی ساخت کے ساتھ ورڈ، پی ڈی ایف یا ای پب میں دے دیتا ہے، اس لیے الگ الگ فائلیں جوڑنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر صفحے کی تاریخِ نسخ محفوظ رہتی ہے، تو ناشر کی ترامیم لگانے کے بعد بھی پچھلا متن دیکھا جا سکتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوال
آئی ایس بی این کیسے ملتا ہے؟
ہر ملک کا ایک قومی ادارہ اسے جاری کرتا ہے، اور درخواست عام طور پر ناشر کے نام سے جاتی ہے۔ اسی لیے یہ مرحلہ ناشر طے ہونے کے بعد آتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔
پہلی اشاعت کتنے نسخوں کی ہو؟
پہلی کتاب کے لیے سو سے تین سو نسخے مناسب ہیں۔ فروخت ہو جائیں تو دوبارہ چھپوانا مشکل نہیں؛ مگر ہزار نہ بکنے والے نسخے خرچ بھی ہیں اور گودام کا جھنجھٹ بھی۔
کمپوزنگ خود کر سکتا ہوں؟
تکنیکی طور پر ممکن ہے، مگر اردو کی صفحہ بندی میں نستعلیق فونٹ، سطروں کا فاصلہ اور حاشیے ایسے ہیں کہ تجربہ کار کمپوزر کا کام صاف نظر آتا ہے۔ کم از کم آخری فائل کسی ماہر سے دیکھوا لیں۔
پہلے کاغذی یا پہلے برقی؟
دونوں ممکن ہیں۔ برقی اشاعت تیز اور کم خرچ ہے اور ابتدائی قاری بنا سکتی ہے؛ لیکن اگر کاغذی ناشر موجود ہے تو ترتیب اسی سے طے کریں۔
پروف ریڈنگ خود کر لوں؟
کسی حد تک ہاں، خاص طور پر اُن ٹولز کے ساتھ جو املا کی یکسانی اور تکرار دکھاتے ہیں۔ مگر ادارت کے لیے باہر کی نظر درکار ہے، کیونکہ مصنف وہ متن پڑھتا ہے جو اُس کے ذہن میں ہے، وہ نہیں جو کاغذ پر ہے۔